1 مئ 2015
کراچی کانفرنس
ڈاکٹر احسان دانش
ادب اور اہل قلم کا پُر امن معاشرے کے قیام میں کردار
ایک ادیب کا اپنے معاشرے سے ربط اور تعلق ایک فطری عمل ہے۔ ادیب یا شاعر زندگی کی حرکات اور نشیب و فراز کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ اس طرح ادب اور زندگی کا تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ معاشرے میں جو کچھ ہے اور جو واقعات و حادثات وقوع پذیر ہورہے ہیں ادیب ان کے براہ راست اثرات قبول کرتا ہے۔ اگر ایک اہلِ قلم کے اردگرد امن کی فضا ہوگی تو وہ سکھ اور اطمنان کے نغمے گنگنائے گا لیکن اگر اس کے آس پاس بدامنی اور وحشت کا ماحول ہوگا تو اس کے من پر یقینی طور پر دکھ اور کرب کی پرچھائیاں چھا جائیں گی، ايسے حالات میں ظلم، بربریت اور جنگ اس کا موضوعِ سخن ہوگا۔ ویسے بھی امن کا متضاد لفظ جنگ یا بدامنی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں جنگ کے نقارے سنائی دے رہے ہیں۔ دھرتی پر ہر طرف بارود کی بو پھیلی ہوئی ہے۔ خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک میں بدامنی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے یہی مسئلہ ہمارے ملک کی جڑوں سے بھی پیوست ہوگیا ہے۔ اس ساری صورتحال کے پیشِ نظر اہلِ قلم کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
سليم اختر لکھتے ہيں که ”ادب میں جنگ سے نفرت کے واضح اثرات ملتے ہيں اور اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک اچھی تحریر بے شمار لوگوں کو متاثر کرسکتی ہے لیکن قیامِ امن کے لیے ایک پائیدار تصورِ حیات سامنے رکھ کے بات کرنا بالکل جداگانہ امر ہے۔ تحریر سے جنگ (بدامنی) کے خلاف نفرت پیدا کرنا بلاواسطہ ہے۔ ادیب جنگ سے نفرت دلاتا ہے۔ یعنی ایک منفی چیز (جنگ) کے خلاف منفی جذبہ (نفرت) کو ابھار کرمثبت (امن) کو جنم دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے یہ مثبت دائمی نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر وہ مثبت کے پرچار کے لیے مثبت قدر (نظریہ حیات) کا سهارا لیتا هے تو اثر دیر پا ہوگا۔ اس صورت میں فرد صرف جنگ سے متنفر ہی نہ ہوگا بلکہ امن کو شعار زيست سمجھتے ہوئے اس کے حصول کے لیے کوشاں بھی ہوگا۔“
ادب اور اہل قلم کا پُر امن معاشرے کے قیام میں کون سا کردار ہے یا ہوسکتا ہے۔ اس پر تفصیل سے بات کرنے سے پہلے ہمیں ادب، ادیب اور معاشرے کے تعلق کو سمجھنا اور ادیب کے سماجی کردار کو واضح کرنا ہوگا۔
جس طرح زبان، سماج اور کلچر کی ایک دوسرے سے گہری وابستگی ہے اُسی طرح ادب کا بھی اپنے معاشرے سے اٹوٹ رشتہ ہے۔ جس طرح زبان کسی قوم یا معاشرے کی علامت ہے ٹھیک اُسی طرح ادب بھی ہر معاشرے کی ضرورت ہے، کیونکہ زبان اور ادب کا خود ایک دوسرے سے گہرا رشتہ ہے۔ اس لیے جس طرح زبان کے بغیر ادب کا تصور ممکن نہیں اُسی طرح زبان کی زندگی اور دائمیت کے لیے ادب کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے، بلکہ اگر کہا جائے کہ ادب زبان کی روح ہے تو غلط نہ ہوگا۔
ادب نہ فقط زندگی کا ترجمان اور ناقد ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ وہ ہمار ہے رہن سہن کا مظہر بھی ہے۔ اس لیے اس وقت ہم کسی ايسے ترقی یا فتہ معاشرے کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ جہاں ادب اور ادیب نہ ہوں۔ علم و ادب کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں کسی سماج میں ادب ارتقا پذیر ہوسکتا ہےليکن یہ بات ممکن نہیں کہ ادب اپنے سماج سے ہی لاتعلق ہو۔ ”ادیب معاشرے کا ایک فرد ہی نہیں، معاشرے کی زبان بھی ہوتا ہے کہ اُس کا ذہن حالات کا جائزہ لیتا ہے۔ داخلیت اور خارجیت کا امتزاج تنقیدِ حیات کا روپ دھار لیتا ہے اور یوں اس کا قلم جو شہ پارے تخلیق کرتا ہے، چاہے وه شعر کی شکل ميں هوں يا کهانی کی صورت ميں ان ميں وه اپنے عصر کی عکاسی کرتا ہے اور یہ عکاسی حقیقی تاریخ یا تاريخی حقیقت ہوتی ہے۔”
ادیب کے سماجی کردار کے حوالے سے روسی ادیب لیونڈ سوبو لوف لکھتے ہيں کہ ”ادیب کے لیے یہ صلاحیت لازمی ہے کہ وہ اپنے عہد کی روح اور اس کے ان مخصوص خصائل کو پہچان سکے جو اس کو ماضی سے جدا کر کے جدید شکل دیتے ہیں۔ خود ادیب عوامی زندگی سے جس قدر قریب ہو اُسی اعتبار سے اس کی روشناسی ان امور سے بڑہ جاتی ہے کہ لوگ کیا کرتے ہیں، کس طرح سوچتے ہیں اور کیسے خواب دیکھتے ہیں؟ تعمیراتی معاملات کو سمجھنے کا ذریعہ یہ ہی ہے کہ انسان خود تعمیرات کے مراحل میں شریک ہو، تا کہ وہ تعمیر مکمل ہوجانے پر اُس کا دُور سے نظارہ نہ کرتا رہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ ادیب کو اس کل کا جُز بننا ہے جسے ہم معاشرہ کہتے ہیں۔ ایک ادیب نہ صرف معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتا ہے مگر اپنے دؤر کے شعور کو بڑھانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ ایک تخلیقکار ہونے کی وجہ سے تخریب سے نفرت کرتا ہے اور تخلیق و تعمیر کو اہمیت دیتا ہے۔ ظلم سے نفرت کرتا ہے اور قیامِ امن کے لیے کوشاں رہتا ہے۔















